ادعیہ حضرت موسیٰؑ: ہدایت، آسانی اور نصرت
مختصر تذکرہ و فضائل
حضرت موسیٰؑ کی زندگی فرعون جیسے جابر بادشاہ کے خلاف حق کا علم بلند کرنے کی جدوجہد سے عبارت ہے۔ آپؑ کی دعائیں کسی بھی کٹھن کام کی شروعات، زبان کی لکنت دور کرنے، اور دشمن کے خوف سے نجات پانے کے لیے بے حد مؤثر ہیں۔ آپؑ کا ‘کلیم اللہ’ ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ آپؑ کی بارگاہِ الٰہی میں عاجزی انتہا پر تھی۔ مزید انبیاء کی دعائیں پڑھنے کے لیے Islamic Hub ملاحظہ فرمائیں۔
تفسیر برہان القرآن اور ائمہ طاہرینؑ
تفسیرِ برہان میں امام جعفر صادقؑ سے مروی ہے کہ حضرت موسیٰؑ جب بھی کسی بڑی مشکل (جیسے سمندر کا سامنے آنا یا فرعون کا تعاقب) میں گھر جاتے، تو وہ اللہ کو محمد و آلِ محمدؑ کے واسطے سے پکارتے، اور ان کی ہر مشکل فوراً ٹل جاتی۔
امام محمد باقرؑ فرماتے ہیں کہ موسیٰؑ کا عصا دراصل جنت کی لکڑی سے بنا تھا جو اب بھی محفوظ ہے اور ظہورِ امام مہدیؑ کے وقت ان کے پاس ہوگا۔ موسیٰؑ کا خضرؑ کے پاس جانا دراصل علمِ لدنی اور اسرارِ ولایت کو حاصل کرنے کے لیے تھا۔
حضرت موسیٰؑ اور غمِ حسینؑ
بحار الانوار میں منقول ہے کہ جب موسیٰؑ کربلا کی زمین سے گزرے تو ان کے قدموں سے خون جاری ہو گیا۔ اللہ نے وحی کی: “اے موسیٰ! یہ وہ مقام ہے جہاں میرے حبیب کے فرزند حسینؑ کو پیاسا شہید کیا جائے گا”۔ موسیٰؑ نے وہاں بیٹھ کر بہت گریہ کیا اور ظالموں پر لعنت بھیجی۔
خلاصہِ فوائد
حضرت موسیٰؑ کی دعاؤں کا ورد رکاوٹوں کو دور کرنے اور زبان میں تاثیر پیدا کرنے کے لیے اکسیر ہے۔ ائمہؑ نے خاص طور پر ‘رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي’ کو ہر اہم کام سے پہلے پڑھنے کی تاکید فرمائی ہے۔