ادعیہ حضرت ایوب صابرؑ: شفا اور صبر
صبرِ ایوبؑ اور شفائے الٰہی
حضرت ایوبؑ کی آزمائش انسانی ہمت کی انتہا تھی، مگر آپؑ نے “صبرِ جمیل” کا دامن نہ چھوڑا۔ جب بیماری اور مصائب نے ہر طرف سے گھیر لیا، تب بھی آپؑ نے اللہ سے شکایت نہیں کی بلکہ نہایت عاجزی سے اپنی حالتِ زار اللہ کے سامنے پیش کی۔ یہی وہ مقامِ بندگی ہے جہاں سے شفائے کاملہ کے چشمے پھوٹتے ہیں۔ مزید انبیاء کی مستند دعائیں پڑھنے کے لیے Islamic Hub ملاحظہ کریں۔
تفسیر برہان القرآن اور ائمہؑ کی تعلیمات
تفسیرِ برہان میں امام جعفر صادقؑ سے مروی ہے کہ حضرت ایوبؑ نے اپنی تکلیف کے لیے اس وقت دعا کی جب دشمنوں نے ان کی بیماری کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ “اللہ نے اسے چھوڑ دیا ہے”۔ آپؑ کو اپنی تکلیف کا دکھ نہ تھا، بلکہ اللہ کی رحمت پر اٹھنے والے سوالات برداشت نہ ہوئے۔
امام محمد باقرؑ فرماتے ہیں کہ جب ایوبؑ نے اللہ کو پنجتن پاکؑ کے واسطے سے پکارا، تو اللہ نے حکم دیا: “اپنا پاؤں زمین پر مارو، یہ ٹھنڈا چشمہ نہانے اور پینے کے لیے ہے”۔ اس غسل کے بعد آپ کا بدن چودہویں کے چاند کی طرح چمکنے لگا۔
صبرِ ایوبؑ اور صبرِ شبیرؑ
حضرت امام سجادؑ فرماتے ہیں کہ حضرت ایوبؑ نے مصائب پر بے مثال صبر کیا، مگر ان کے خیمے نہیں جلائے گئے اور نہ ہی ان کی مستورات کو قیدی بنایا گیا۔ کربلا کا صبر ایوبؑ کے صبر سے بھی عظیم تر ہے کیونکہ وہاں امام حسینؑ نے سب کچھ لٹا کر بھی اللہ کا شکر ادا کیا۔
(ماخوذ از اللہوف)
فرامینِ معصومینؑ بر تذکرہ حضرت ایوبؑ
“حضرت ایوبؑ کی آزمائش ان کے کسی گناہ کی وجہ سے نہیں تھی، بلکہ اللہ ان کا مرتبہ بلند کرنا چاہتا تھا تاکہ وہ صابرین کے لیے ایک ابدی نمونہ بن جائیں۔”
عیون اخبار الرضاؑخلاصہِ فوائد
حضرت ایوبؑ کی دعائیں اللہ کی رحمت کو متوجہ کرنے کی چابی ہیں۔ ائمہؑ نے ہدایت فرمائی ہے کہ جب جسمانی یا مالی مصیبت حد سے بڑھ جائے، تو ان کلمات کے ذریعے اللہ سے رجوع کریں، کیونکہ اللہ صبر کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔