Greed and Enmity
بخل اور عداوت
مَنْ وَضَعَ نَفْسَهُ مَوَاضِعَ التُّهْمَةِ فَلَا يَلُومَنَّ مَنْ أَسَاءَ بِهِ الظَّنَّ.
جو شخص اپنے آپ کو بدنامی اور تہمت کی جگہوں پر رکھتا ہے، اسے اس شخص کو ملامت نہیں کرنی چاہیے جو اس کے بارے میں بدگمانی کرے۔
“Whoever places himself in positions of suspicion should not blame those who think ill of him.”
Reflections: اس حکمت میں امام علی علیہ السلام سماجی بصیرت کا ایک اہم اصول بیان فرما رہے ہیں۔ انسان اپنی عزت کا خود محافظ ہے۔ اگر کوئی شخص جانتے بوجھتے ایسے حالات یا ایسی محافل میں جاتا ہے جو شک و شبہ پیدا کرتی ہیں، تو وہ لوگوں کو بدگمانی کا موقع خود فراہم کرتا ہے۔ یہ قول ہمیں سکھاتا ہے کہ تقویٰ صرف گناہ سے بچنے کا نام نہیں، بلکہ ایسے مواقع سے دور رہنے کا نام بھی ہے جو آپ کے کردار پر حرف آنے کا سبب بن سکیں۔
