ادعیہ حضرت زکریاؑ: طلبِ اولاد اور یقین
امیدِ اولاد اور توکلِ کامل
حضرت زکریاؑ کی دعا پکارنے کے آداب سکھاتی ہے۔ آپؑ نے اپنی کمزوری کا اعتراف کیا لیکن اللہ کی قدرت پر کبھی شک نہیں کیا۔ محرابِ عبادت میں کھڑے ہو کر کی گئی یہ پکار بتاتی ہے کہ جب اسباب ختم ہو جائیں، تب مسبب الاسباب کے دروازے پر دستک دینا ہی مومن کا شیوہ ہے۔ مزید انبیاء کی مستند دعائیں پڑھنے کے لیے Islamic Hub ملاحظہ فرمائیں۔
تفسیر برہان القرآن اور اسرارِ کربلا
تفسیرِ برہان میں امام جعفر صادقؑ سے مروی ہے کہ حضرت زکریاؑ نے اللہ سے دعا کی تھی کہ انہیں کربلا کے مصائب کا علم عطا ہو۔ جب اللہ نے انہیں ‘کہیعص’ کے اسرار بتائے، تو ‘ک’ سے مراد کربلا اور ‘ھ’ سے ہلاکتِ عترتِ طاہرہ تھی۔
زکریاؑ نے عرض کی: باری تعالیٰ! مجھے ایسا بیٹا دے جس کی محبت میرے دل میں ویسی ہی ہو جیسی تیرے حبیبؐ کے دل میں حسینؑ کی ہے، پھر اسے میری آنکھوں کے سامنے شہید کر تاکہ میں بھی تیرے حبیبؐ کے غم میں شریک ہو سکوں۔ اللہ نے ان کی دعا قبول کی اور انہیں یحییٰؑ عطا فرمائے جو پیاسے شہید کیے گئے۔
فرامینِ معصومینؑ بر تذکرہ حضرت زکریاؑ
“جب زکریاؑ کو یحییٰؑ کی خوشخبری ملی اور وہ تین دن تک لوگوں سے کلام نہ کر سکے، تو وہ وقت انہوں نے صرف تسبیح اور مناجاتِ الٰہی میں گزارا۔ خاموشی میں ذکرِ الٰہی وہ طاقت ہے جو ناممکن کو ممکن بنا دیتی ہے۔”
تفسیر البرھان“جو شخص اولاد کا طلبگار ہو، وہ کثرت سے ‘رَبِّ لَا تَذَرْنِي فَرْدًا’ پڑھے اور سجدہِ شکر میں کثرت کرے، اللہ اسے کبھی محروم نہیں رکھتا۔”
مصباح الکفعمیشہادتِ زکریاؑ اور صبرِ کامل
حضرت علیؑ فرماتے ہیں کہ حضرت زکریاؑ کو ان کی قوم نے اس وقت شہید کیا جب وہ ایک درخت میں پناہ گزین تھے۔ ظالموں نے اس درخت کو آرے سے کاٹ دیا، مگر آپؑ نے اف تک نہ کی تاکہ صبر میں فرق نہ آئے۔ آپؑ کا خون زمین پر ابلتا رہا یہاں تک کہ اللہ کا عذاب نازل ہوا۔
(کامل الزیارات)
خلاصہِ فوائد
حضرت زکریاؑ کی دعائیں بظاہر ناممکن کو ممکن بنانے کا بہترین ذریعہ ہیں۔ ائمہؑ نے ہدایت فرمائی ہے کہ ان دعاؤں کے ساتھ صدقہ، توبہ اور درود کا اہتمام کیا جائے، کیونکہ اللہ اپنے گھر کے خادموں اور سچے طلبگاروں کو کبھی تنہا نہیں چھوڑتا۔