ادعیہ حضرت یونسؑ: ذکرِ یونسیہ اور نجات
ذکرِ یونسیہ کی حقیقت
حضرت یونسؑ کی دعا غموں کے سمندر سے نکلنے کا ساحل ہے۔ جب انسان کے گرد مایوسی کی دیواریں بلند ہو جائیں اور کوئی ظاہری راستہ نظر نہ آئے، تو یہ کلماتِ الٰہی غیبی مدد کو پکارتے ہیں۔ یہ دعا اللہ کی تسبیح، اپنی عاجزی کے اقرار اور توبہ کا مجموعہ ہے۔ مزید معتبر قرآنی دعائیں پڑھنے کے لیے Islamic Hub ملاحظہ فرمائیں۔
تفسیر برہان القرآن اور ائمہؑ کی تعلیمات
تفسیرِ برہان میں امام جعفر صادقؑ سے مروی ہے کہ مچھلی کے پیٹ میں حضرت یونسؑ کی تسبیح کی آواز سمندر کی تمام مخلوقات نے سنی، اور وہ سب بھی آپؑ کے ساتھ اللہ کی پاکی بیان کرنے لگے۔ مچھلی کے پیٹ میں آپؑ کے لیے وہ مقام قید نہیں بلکہ ایک عظیم عبادت گاہ بن گیا تھا۔
امام علی رضاؑ فرماتے ہیں کہ جب یونسؑ کو آزمائش میں ڈالا گیا، تو انہوں نے مچھلی کے پیٹ میں اللہ کی وحدانیت کے بعد محمدؐ و آلِ محمدؐ کی ولایت کا اقرار کیا، تب اللہ نے انہیں نجات عطا فرمائی۔ یہی وہ وسیلہ ہے جو ہر نبی کی مشکل کشائی کا سبب بنا۔
غیبی نصرت اور توبہ کی قبولیت
امام محمد باقرؑ فرماتے ہیں کہ قرآن میں ‘ظلمات’ سے مراد تین اندھیرے ہیں: رات کی تاریکی، سمندر کی گہرائی، اور مچھلی کے پیٹ کا اندھیرا۔ یونسؑ نے ان تینوں پردوں کے پیچھے سے اللہ کو پکارا، اور اللہ نے ان کی فریاد سنی۔ جب آپ باہر آئے تو اللہ نے سائے کے لیے کدو کی بیل (یقطین) اگائی، جو اللہ کی خاص رحمت کی علامت تھی۔
فرامینِ معصومینؑ بر تذکرہ حضرت یونسؑ
“کیا میں تمہیں وہ دعا نہ بتاؤں کہ جب بھی کوئی پریشان حال اسے پڑھے تو اللہ اس کی پریشانی دور فرما دے؟ وہ ‘ذکرِ یونس’ ہے۔”
بحار الانوار“جو شخص سجدے میں چالیس مرتبہ ذکرِ یونسیہ پڑھے، اللہ اس کے گناہوں کو بخش دیتا ہے اور اس کی دعا کو رد نہیں فرماتا۔”
مستدرک الوسائلخلاصہِ فوائد
ذکرِ یونسیہ توبہ کی روح اور حاجت کی قبولیت کا تیرِ بہدف نسخہ ہے۔ ائمہؑ نے سجدے کی حالت میں اس تسبیح کو پڑھنے کی خاص تاکید فرمائی ہے، کیونکہ یہ بندے کو اللہ کے قریب ترین کر دیتی ہے اور بڑے سے بڑے غم کو خوشی میں بدل دیتی ہے۔