ادعیہ حضرت یوسفؑ و یعقوبؑ: صبر، توکل اور ملاپ
صبرِ جمیل اور توکلِ الہیٰ
حضرت یعقوبؑ اور حضرت یوسفؑ کی زندگی جدائی کے دکھ اور پھر اللہ کی تدبیر سے ملاپ کی ایک عظیم مثال ہے۔ حضرت یعقوبؑ کا ‘صبرِ جمیل’ اور حضرت یوسفؑ کی قید میں پاکدامنی، یہ سکھاتی ہے کہ مشکل چاہے کتنی ہی طویل کیوں نہ ہو، اللہ کی رحمت سے مایوس ہونا مومن کا شیوہ نہیں ہے۔ مزید انبیاء کی دعائیں Islamic Hub پر ملاحظہ کریں۔
تفسیر برہان القرآن اور ائمہؑ کے ارشادات
تفسیرِ برہان میں منقول ہے کہ جب یعقوبؑ کے بیٹوں نے اپنے گناہوں کی معافی چاہی، تو یعقوبؑ نے انہیں سحر کے وقت انتظار کرنے کو کہا اور پھر اللہ کو انوارِ محمدؐ و آلِ محمدؑ کے واسطے سے پکارا، تب ان کی توبہ قبول ہوئی۔
امام جعفر صادقؑ فرماتے ہیں کہ حضرت یوسفؑ کی وہ قمیض جس کی خوشبو سے یعقوبؑ کی بینائی لوٹ آئی، دراصل جنت کا لباس تھا جو حضرت ابراہیمؑ کے لیے لایا گیا تھا۔ وہ قمیض اب بھی محفوظ ہے اور امامِ زمانہؑ کے پاس ہے۔ حضرت یوسفؑ نے کنویں کی گہرائی میں بھی اہل بیتؑ کا توسل لیا تھا جس کی برکت سے وہ مصر کے بادشاہ بنے۔
حضرت یعقوبؑ کا گریہ اور غمِ شبیرؑ
امام زین العابدینؑ سے جب آپ کے مسلسل رونے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپؑ نے فرمایا: “حضرت یعقوبؑ کے بارہ بیٹے تھے، ایک نظروں سے اوجھل ہوا تو وہ رو رو کر نابینا ہو گئے؛ یہاں میری آنکھوں کے سامنے میرے خاندان کے سترہ افراد (اہلِ بیتؑ) ذبح کر دیے گئے۔ میں ان کا غم کیسے بھول سکتا ہوں؟”
(بحار الانوار، جلد 46)
خلاصہِ فوائد
ان دعاؤں کا ورد مشکل وقت میں صبر کرنے، دشمنوں کی سازشوں سے بچنے اور زندگی کا انجام ایمان پر کرنے کے لیے بے حد مفید ہے۔ ائمہؑ نے غم کی شدت میں حضرت یعقوبؑ کے کلمات “إِنَّمَا أَشْكُو بَثِّي وَحُزْنِي إِلَى اللهِ” کو دہرانے کی تلقین فرمائی ہے۔