حضرت آدمؑ کی قرآنی دعائیں
قرآنی پسِ منظر
قرآن مجید میں حضرت آدمؑ اور حضرت حواؑ کی وہ دعا بیان کی گئی ہے جو انہوں نے شجرِ ممنوعہ کا پھل چکھنے کے بعد بارگاہِ الہی میں کی تھی۔ یہ دعا انسانیت کے لیے توبہ اور استغفار کا پہلا اور سب سے عظیم سبق ہے۔ جب انسان سے کوئی خطا ہو جائے، تو یہ الفاظ اللہ کی رحمت کو متوجہ کرنے کا بہترین ذریعہ ہیں۔
(سورۃ الاعراف، آیت 23)
- یہ دعا اللہ کے غصے کو ٹھنڈا کرنے اور گناہوں کی معافی کے لیے اکسیر ہے۔
- اس دعا کے ذریعے انسان میں عاجزی اور انکساری پیدا ہوتی ہے۔
- مشکلات اور پریشانیوں کے وقت اس کا ورد دل کو سکون فراہم کرتا ہے۔
- توبہ کی قبولیت کے لیے یہ سب سے زیادہ آزمودہ قرآنی الفاظ ہیں۔
- روایات کے مطابق، اس دعا کی برکت سے حضرت آدمؑ کی توبہ قبول ہوئی اور انہیں دوبارہ مقامِ قرب عطا ہوا۔
توسلِ پنجتن پاکؑ
اسلامی روایات (خاص طور پر مکتبِ اہلِ بیتؑ) کے مطابق، حضرت آدمؑ نے جب ان کلمات کے ساتھ توبہ کی، تو انہوں نے عرش پر لکھے ہوئے پنجتن پاکؑ (محمد، علی، فاطمہ، حسن اور حسین علیہم السلام) کے ناموں کا وسیلہ بھی پیش کیا، جس کی برکت سے اللہ تعالی نے ان کی توبہ فوراً قبول فرمائی۔
حضرت آدمؑ کی دعائیں اور معتبر مآخذ
توبہِ آدمؑ: تذکرہ، ادعیہ اور اقوال
قرآنی پسِ منظر
قرآن مجید میں حضرت آدمؑ کی توبہ کا ذکر انسانیت کے لیے توبہ اور اللہ کی رحمت کی طرف واپسی کا پہلا سبق ہے۔ جب حضرت آدمؑ سے ترکِ اولیٰ سرزد ہوا، تو انہوں نے ان کلمات کے ذریعے اللہ کو پکارا جنہوں نے ان کے لیے بخشش کے دروازے کھول دیے۔ یہ کلمات آج بھی ہر گناہ گار کے لیے معافی کی سب سے بڑی سند ہیں۔
دیگر مستند ادعیہِ آدمؑ
توبہِ آدمؑ پر اقوالِ معصومینؑ
“جب آدمؑ سے خطا سرزد ہوئی تو انہوں نے عرض کی: بارِ الٰہی! میں تجھ سے محمد (ﷺ) کے واسطے سے معافی چاہتا ہوں۔ اللہ نے فرمایا: تم محمد (ﷺ) کو کیسے جانتے ہو؟ عرض کی: میں نے عرش کے پایوں پر لکھا دیکھا ‘لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ’۔ پس میں جان گیا کہ وہ تجھے سب سے زیادہ محبوب ہیں۔”
Source: Al-Mustadrak al-Sahihayn | المستدرک“اللہ تعالیٰ نے آدمؑ کی توبہ قبول نہیں فرمائی جب تک کہ انہوں نے ہمارے (اہلِ بیتؑ کے) ناموں کا وسیلہ نہیں لیا۔ وہ کلمات جو آدمؑ نے سیکھے وہ محمد، علی، فاطمہ، حسن اور حسین (علیہم السلام) کے مقدس نام تھے۔”
Source: Bihar al-Anwar, Vol. 11 | بحار الانوار“آدمؑ نے عرض کی: الٰہی! محمد و آلِ محمدؑ کے حق میں میری توبہ قبول فرما۔ اللہ نے وحی کی: اے آدم! تم نے ان ناموں کا واسطہ دیا جن کے ذریعے اگر زمین و آسمان والے بھی دعا مانگتے تو میں انہیں معاف کر دیتا۔”
Source: Tafsir al-Burhan | تفسیر البرھان
