تعارف اور عظمتِ سورہ واقعہ
سورہ واقعہ قرآنِ مجید کی 56 ویں سورہ ہے جو مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی۔ اس سورہ کو “سورہ غنیٰ” (خوشحالی کی سورہ) کہا جاتا ہے کیونکہ اس کی تلاوت فقر و فاقہ اور معاشی تنگی کے خلاف ایک مضبوط روحانی ڈھال ہے۔ یہ سورہ نہ صرف رزق کی کشادگی کا ذریعہ ہے بلکہ یہ انسان کو خالقِ حقیقی کی قدرت کی طرف متوجہ کرتی ہے۔
فرمانِ رسول اللہ ﷺ اور فقر کا خاتمہ
احادیثِ نبویؐ میں اس سورہ کی تلاوت کو فقر سے نجات کا یقینی راستہ قرار دیا گیا ہے۔ حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
“مَنْ قَرَأَ سُورَةَ الْوَاقِعَةِ كُلَّ لَيْلَةٍ لَمْ تُصِبْهُ فَاقَةٌ أَبَداً”
“جو شخص ہر رات سورہ واقعہ کی تلاوت کرے گا، اسے کبھی فقر و فاقہ نہیں پہنچے گا۔”
حضرت عبداللہ ابن مسعودؓ نے اپنی بیٹیوں کو وصیت میں سورہ واقعہ کی تلاوت کا حکم دیا تھا تاکہ وہ میرے بعد کسی کی محتاج نہ رہیں۔
Reference: Al-Kafi / Tafsir Ibn Kathirفرامینِ ائمہ معصومین علیہم السلام
امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا کہ جو شخص اس سورہ کو شبِ جمعہ تلاوت کرے، اللہ اسے اپنا محبوب بنا لیتا ہے اور اس کے رزق میں برکت عطا فرماتا ہے۔
سورہ کا پیغام اور معاشی استحکام
اس سورہ میں اللہ تعالیٰ نے تخلیقِ انسانی، غلہ کی پیداوار، بارش کا برسنا اور آگ کی ضرورت کا تذکرہ کیا ہے۔ ان مظاہر پر غور کرنے سے انسان کا ‘توکل’ (اللہ پر بھروسہ) مضبوط ہوتا ہے، جو رزق کی کنجی ہے۔
تلاوت کا مسنون طریقہ
- ✦ ہر رات نمازِ عشاء یا مغرب کے بعد تلاوت کریں۔
- ✦ شبِ جمعہ کو تلاوت کا خاص اہتمام کریں۔
- ✦ ترجمہ اور معانی پر غور کر کے تلاوت کریں۔
مزید مطالعہ کے لیے وزٹ کریں: islamichub.me