شکرگزاری اور غلبہ
حضرت داؤدؑ اور ان کے صاحبزادے حضرت سلیمانؑ کو اللہ نے وہ بادشاہی عطا کی جو کسی اور کے حصے میں نہ آئی۔ ان کی دعاؤں کا محور شکر گزاری، عدل و انصاف، اور اللہ کی دی ہوئی نعمتوں کو اس کی راہ میں استعمال کرنا ہے۔ یہ دعائیں سکھاتی ہیں کہ طاقت اور مال بندگی میں رکاوٹ نہیں بلکہ شکر کا ذریعہ ہونے چاہئیں۔
فرامینِ معصومینؑ بر تذکرہ سلیمانؑ و داؤدؑ
امام جعفر صادقؑ
“حضرت سلیمانؑ کو پوری دنیا کی بادشاہی دی گئی، مگر ان کا لباس ٹاٹ کا تھا اور وہ اپنی محنت کی کمائی سے سوکھی روٹی کھاتے تھے۔ اللہ نے انہیں ‘نعم العبد’ (بہترین بندہ) فرمایا۔”
“Suleman was given the kingdom of the entire world, yet his clothes were simple and he ate dry bread earned from his own manual labor. Allah called him an ‘Excellent Servant’.”
Source: Bihar al-Anwar
✦
امام جعفر صادقؑ
“حضرت سلیمانؑ کی بادشاہی ان کی انگوٹھی میں پوشیدہ تھی، جس پر اسمِ اعظم نقش تھا۔ جب اللہ نے ان کا امتحان لیا تو وہ انگوٹھی ان سے جدا ہوئی، اور جب توبہ قبول ہوئی تو بادشاہی لوٹ آئی۔ وہ انگوٹھی اب ائمہؑ کے پاس محفوظ ہے اور قائمِ آلِ محمدؑ کے پاس ہوگی۔”
“The kingdom of Suleman was contained within his ring, which bore the Greatest Name of Allah (Ism-e-Azam). It is preserved with the Imams and will be with the Qa’im of the Family of Muhammad (atfs).”
Source: Al-Kafi, Vol 1 | الکافی
✦
امام محمد باقرؑ
“اللہ نے حضرت داؤدؑ کے لیے لوہے کو موم کی طرح نرم کر دیا تھا، وہ اسے بغیر آگ اور ہتھوڑے کے اپنے ہاتھوں سے بنتے تھے۔ یہ ان کی حلال کمائی کا ذریعہ تھا، کیونکہ اللہ اس نبی کو پسند کرتا ہے جو اپنے ہاتھ کی کمائی سے کھائے۔”
“Allah made iron as soft as wax for Dawood; he would weave it with his hands without fire or hammer. This was his source of lawful earning, for Allah loves the Prophet who eats from the labor of his own hands.”
Source: Bihar al-Anwar, Vol 14 | بحار الانوار
✦
امام علی رضاؑ
“سلیمانؑ کو ‘منطق الطیر’ (پرندوں کی بولی) سکھائی گئی تھی۔ ایک بار انہوں نے ایک پرندے کو اپنی مادہ سے باتیں کرتے سنا، وہ کہہ رہا تھا کہ اگر میں چاہوں تو سلیمانؑ کا تخت الٹ دوں۔ سلیمانؑ مسکرائے اور فرمایا: یہ طاقت نہیں بلکہ صرف اپنی مادہ کے سامنے بڑائی کا اظہار ہے۔”
“Suleman was taught the speech of birds. Once he heard a bird boasting to his mate that he could overturn Suleman’s throne. Suleman smiled and said: ‘This is not power, but merely vanity before his mate.'”
Source: Uyun Akhbar al-Reza | عیون اخبار الرضاؑ
✦
حضرت علیؑ
“داؤدؑ کی آواز اتنی دلکش تھی کہ جب وہ زبور پڑھتے تو جنگل کے جانور ان کے گرد اکٹھے ہو جاتے اور اپنی بھوک پیاس بھول جاتے۔ ان کی خشیتِ الٰہی ایسی تھی کہ وہ اپنے آنسوؤں سے مٹی کو گیلا کر دیتے تھے۔”
“Dawood’s voice was so enchanting that wild animals would gather around him to hear the Psalms, forgetting their hunger. His fear of Allah was such that his tears would drench the soil.”
Source: Nahj al-Balagha | نہج البلاغہ
✦
امام جعفر صادقؑ
“ہوا سلیمانؑ کے تخت کو ایک مہینے کا راستہ صبح اور ایک مہینے کا راستہ شام میں طے کرواتی تھی۔ یہ ہوا دراصل ان کے تابع اس لیے تھی کیونکہ وہ اللہ کے ہر حکم کے سامنے جھک جانے والے تھے۔”
“The wind would carry Suleman’s carpet a month’s journey in the morning and a month’s journey in the evening. The wind was subservient to him because he was entirely submissive to Allah’s commands.”
Source: Tafsir al-Burhan | تفسیر البرھان
✦
حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ
“اے علی! تمہاری مثال سلیمانؑ جیسی ہے، جنہیں اللہ نے زمین کے خزانے اور جن و انس پر حکومت عطا کی۔ جو تم سے محبت کرے گا وہ نجات پائے گا اور جو دشمنی کرے گا وہ خسارے میں رہے گا۔”
“O Ali! Your likeness is that of Suleman, whom Allah granted the treasures of the earth and authority over jinn and men. Whoever loves you is saved, and whoever hates you is in loss.”
Source: Manaqib ibn Shahr Ashub
✦
حضرت علیؑ
“حضرت داؤدؑ جب زبور کی تلاوت کرتے تھے تو پہاڑ اور پرندے ان کے ساتھ اللہ کی تسبیح کرتے تھے۔ یہ ان کی آواز کی خوبصورتی اور خشیتِ الٰہی کا کرشمہ تھا۔”
“When Prophet Dawood recited the Psalms (Zabur), the mountains and birds would join him in glorifying Allah. This was a miracle of his voice and his fear of God.”
Source: Nahj al-Balagha
خلاصہِ فوائد | Summary
ان دعاؤں کا ورد نعمتوں میں اضافے، اقتدار میں برکت اور دل کو تکبر سے پاک رکھنے کے لیے بہترین ہے۔ ائمہؑ نے کثرتِ شکر کو نعمتوں کے دوام (ہمیشہ رہنے) کا ذریعہ قرار دیا ہے۔
Reciting these prayers is best for increasing blessings, achieving success, and keeping the heart free from arrogance. The Imams declared abundant gratitude as a means for the permanence of favors.