امیدِ اولاد اور توکل
حضرت زکریاؑ کی دعا پکارنے کے آداب سکھاتی ہے۔ آپؑ نے اپنی کمزوری کا اعتراف کیا لیکن اللہ کی قدرت پر شک نہیں کیا۔ محرابِ عبادت میں کھڑے ہو کر کی گئی یہ پکار بتاتی ہے کہ جب اسباب ختم ہو جائیں، تب مسبب الاسباب کے دروازے پر دستک دینا ہی مومن کا شیوہ ہے۔
فرامینِ معصومینؑ بر تذکرہ حضرت زکریاؑ
امام جعفر صادقؑ
“حضرت زکریاؑ نے جب محرابِ مریمؑ میں بے موسمی پھل دیکھے، تو ان کا یقین پختہ ہوا کہ جو رب بے موسم پھل دے سکتا ہے وہ بڑھاپے میں اولاد بھی دے سکتا ہے۔ اسی لیے انہوں نے وہیں دعا فرمائی۔”
“When Zakariya saw out-of-season fruits in Maryam’s sanctuary, he became certain that the Lord who provides fruits out of season can provide a child in old age.”
Source: Bihar al-Anwar
✦
امام جعفر صادقؑ
“حضرت زکریاؑ نے اللہ سے دعا کی تھی کہ انہیں کربلا کے مصائب کا علم عطا ہو۔ جب اللہ نے انہیں ‘کہیعص’ کے اسرار بتائے، تو ‘ک’ سے مراد کربلا اور ‘ھ’ سے ہلاکتِ عترت تھی۔ زکریاؑ تین دن تک محراب میں روتے رہے اور عرض کی: باری تعالیٰ! مجھے ایسا بیٹا دے جس کی محبت میرے دل میں ویسی ہی ہو جیسی تیرے حبیبؐ کے دل میں حسینؑ کی ہے، پھر اسے میری آنکھوں کے سامنے شہید کر تاکہ میں بھی تیرے حبیبؐ کے غم میں شریک ہو سکوں۔”
“Prophet Zakariya asked Allah to teach him about the tragedy of Karbala. When Allah revealed the secrets of ‘Kaf-Ha-Ya-Ayn-Sad’, the ‘Kaf’ stood for Karbala and ‘Ha’ for the destruction of the Progeny. Zakariya wept for three days, asking Allah for a son whose love would be like that of Hussain (as) in the Prophet’s (saw) heart, so that his eventual martyrdom would allow Zakariya to share in the Prophet’s grief.”
Source: Bihar al-Anwar, Vol 44 | بحار الانوار
✦
امام محمد باقرؑ
“جب زکریاؑ کو یحییٰؑ کی خوشخبری ملی اور وہ تین دن تک لوگوں سے کلام نہ کر سکے، تو وہ وقت انہوں نے صرف تسبیح اور مناجاتِ الٰہی میں گزارا۔ ائمہؑ فرماتے ہیں کہ خاموشی میں ذکرِ الٰہی وہ طاقت ہے جو ناممکن کو ممکن بنا دیتی ہے۔”
“When Zakariya received the news of Yahya (as) and could not speak to people for three days, he spent that time solely in Tasbih and intimate prayer. The Imams teach that silent remembrance of Allah is a power that makes the impossible, possible.”
Source: Tafsir al-Burhan | تفسیر البرھان
✦
حضرت علیؑ
“حضرت زکریاؑ کو ان کی قوم نے اس وقت شہید کیا جب وہ ایک درخت میں پناہ گزین تھے۔ ظالموں نے اس درخت کو آرے سے کاٹ دیا، مگر زکریاؑ نے اف تک نہ کی تاکہ ان کے صبر میں فرق نہ آئے۔ آپؑ کا خون زمین پر ابلتا رہا یہاں تک کہ اللہ کا عذاب نازل ہوا۔”
“Prophet Zakariya was martyred by his people while seeking refuge inside a tree. The oppressors sawed the tree in half, yet Zakariya did not utter a sigh so as not to diminish his patience. His blood continued to boil on the earth until Allah’s punishment descended.”
Source: Kamil al-Ziyarat | کامل الزیارات
✦
امام جعفر صادقؑ
“زکریاؑ ہیکلِ سلیمانی کے خادم اور مریمؑ کے کفیل تھے۔ ان کی دعا کی قبولیت کا ایک بڑا سبب ان کی وہ خدمت تھی جو وہ خالصتاً اللہ کے گھر کے لیے انجام دیتے تھے۔ اللہ اپنے گھر کے خادموں کو کبھی تنہا نہیں چھوڑتا۔”
“Zakariya was a servant of the Temple and the guardian of Maryam (as). A major reason for the acceptance of his prayer was his sincere service to the House of Allah. Allah never leaves the servants of His House alone.”
Source: Al-Kafi, Vol 4 | الکافی
✦
حضرت امام زین العابدینؑ
“جو شخص یہ چاہتا ہو کہ اللہ اسے حضرت زکریاؑ کی طرح اولاد عطا فرمائے، اسے چاہیے کہ وہ سجدہِ شکر میں کثرت کرے اور اپنے گناہوں سے توبہ کرے، کیونکہ گناہ رزق اور اولاد کی راہ میں رکاوٹ بنتے ہیں۔”
“Whoever desires that Allah grants them offspring as He did for Zakariya (as) should increase their prostrations of gratitude and repent for their sins, for sins act as barriers to sustenance and children.”
Source: Misbah al-Mutahajjid
امام زین العابدینؑ
“جو شخص اولاد کا طلبگار ہو، وہ کثرت سے ‘رَبِّ لَا تَذَرْنِي فَرْدًا’ پڑھے اور اللہ سے اپنی حالتِ زار بیان کرے، اللہ اسے محروم نہیں رکھتا۔”
“Whoever desires offspring should frequently recite ‘My Lord, do not leave me alone,’ and state their case to Allah; He does not leave them deprived.”
Source: Misbah al-Kaf’ami
خلاصہِ فوائد | Summary
حضرت زکریاؑ کی دعائیں بظاہر ناممکن کو ممکن بنانے کا ذریعہ ہیں۔ ائمہؑ نے ہدایت فرمائی ہے کہ ان دعاؤں کے ساتھ صدقہ اور درود کا اہتمام کیا جائے تاکہ اللہ اپنی رحمت سے گود بھر دے۔
Prophet Zakariya’s prayers are a means to make the seemingly impossible, possible. The Imams advised coupling these prayers with charity and Salawat for Divine blessings.