تاریخی پسِ منظر
حضرت نوحؑ نے اپنی قوم کو صدیوں تک توحید کی دعوت دی لیکن قوم نے استہزاء اور دشمنی کا راستہ اختیار کیا۔ جب اللہ کا عذاب قریب آیا تو حضرت نوحؑ کو کشتی بنانے کا حکم ملا۔ اس کٹھن سفر اور طوفانِ بلا کے دوران حضرت نوحؑ نے جو دعائیں کیں، وہ آج بھی ہر مومن کے لیے آفات سے بچنے اور منزلِ مقصود پر بخیر و عافیت پہنچنے کا بہترین وسیلہ ہیں۔
“(پروردگار!) میں بے بس ہو گیا ہوں، پس تو میری مدد فرما۔”
فضیلت: دشمن کے شر سے نجات اور غیبی مدد کے لیے“اے میرے رب! مجھے برکت والی جگہ اتار، اور تو بہترین اتارنے والا ہے۔”
فضیلت: سفر کی حفاظت اور نئے گھر میں برکت کے لیے“اے میرے رب! مجھے بخش دے، اور میرے والدین کو، اور ہر اس شخص کو جو ایمان کی حالت میں میرے گھر میں داخل ہو، اور تمام مومن مردوں اور مومن عورتوں کو۔”
فضیلت: والدین کی مغفرت اور ایمان کی سلامتی کے لیےاقوالِ معصومینؑ
“جب حضرت نوحؑ کشتی میں سوار ہوئے تو انہوں نے اللہ کو ان کلمات (پنجتن پاکؑ کے وسیلے) سے پکارا، تب اللہ نے کشتی کو طوفان سے نجات دی اور جودی پہاڑ پر ٹھہرایا۔”
Source: Bihar al-Anwar, Vol 11
“حضرت نوحؑ کی کشتی کی کیلوں پر ہمارے (اہلِ بیتؑ کے) نام نقش تھے، جن کی برکت سے وہ طوفان کے تھپیڑوں سے محفوظ رہی۔”
Source: Tafsir al-Burhan
اہمیت و فوائد
★ سفر کی دعا: روایات میں ہے کہ جو شخص سفر شروع کرتے وقت حضرت نوحؑ کی دعا (مُنزلًا مُّبَارَكًا) پڑھے، وہ حادثات سے محفوظ رہتا ہے۔
★ کشائشِ رزق: علمائے کرام نے رزق اور گھر میں برکت کے لیے سورۃ نوح کی تلاوت اور ان دعاؤں کے ورد کی تاکید فرمائی ہے۔
