احکامِ روزہ کا خلاصہ
Essential Rules & Regulations of Fasting
“اے ایمان والو! تم پر روزے واجب کیے گئے ہیں تاکہ تم پرہیزگار بن جاؤ۔” (البقرہ: 183)
1۔ نیت کا صحیح وقت
روزے کے لیے نیت شرط ہے، لیکن نیت کا مطلب محض دل میں یہ عزم ہونا ہے کہ آپ اللہ کے لیے روزہ رکھ رہے ہیں۔
رمضان کے روزے کی نیت صبحِ صادق تک کر لینا ضروری ہے۔ اگر کوئی بھول جائے اور ظہر سے پہلے یاد آئے تو وہ نیت کر سکتا ہے بشرطیکہ کچھ کھایا پیا نہ ہو۔
2۔ مبطلاتِ روزہ (9 چیزیں)
ان چیزوں کے انجام دینے سے روزہ باطل (ٹوٹ) جاتا ہے:
3۔ سفر اور روزہ
اگر کوئی شخص ظہر کے بعد سفر شروع کرے تو اس کا اس دن کا روزہ صحیح ہے اور وہ اسے مکمل کرے گا۔ لیکن اگر ظہر سے پہلے سفر شروع ہو تو روزہ قصر کیا جائے گا۔
4۔ جان بوجھ کر روزہ توڑنا (کفارہ)
بغیر شرعی عذر کے روزہ توڑنے پر قضا کے ساتھ کفارہ واجب ہوتا ہے:
• یا 60 مساکین کو پیٹ بھر کر کھانا کھلانا۔
1 thought on “Jurisprudence of Fasting: Rules & Regulations”