محمدﷺ
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی اٰلِ مُحَمَّدٍ
اللّٰہ

Jurisprudence of Fasting: Rules & Regulations

احکامِ روزہ کا خلاصہ

Essential Rules & Regulations of Fasting

روزہ صرف بھوکا رہنے کا نام نہیں بلکہ یہ روح کی پاکیزگی اور تقویٰ کے حصول کا ذریعہ ہے۔ آئیے روزے کے اہم ترین فقہی مسائل کا ایک مختصر جائزہ لیتے ہیں۔
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ

“اے ایمان والو! تم پر روزے واجب کیے گئے ہیں تاکہ تم پرہیزگار بن جاؤ۔” (البقرہ: 183)

1۔ نیت کا صحیح وقت

روزے کے لیے نیت شرط ہے، لیکن نیت کا مطلب محض دل میں یہ عزم ہونا ہے کہ آپ اللہ کے لیے روزہ رکھ رہے ہیں۔

اہم نکتہ

رمضان کے روزے کی نیت صبحِ صادق تک کر لینا ضروری ہے۔ اگر کوئی بھول جائے اور ظہر سے پہلے یاد آئے تو وہ نیت کر سکتا ہے بشرطیکہ کچھ کھایا پیا نہ ہو۔

2۔ مبطلاتِ روزہ (9 چیزیں)

ان چیزوں کے انجام دینے سے روزہ باطل (ٹوٹ) جاتا ہے:

01جان بوجھ کر کھانا یا پینا۔
02جماع (ہمبستری) کرنا۔
03استمناء (Self-stimulation)۔
04اللہ، رسولؐ اور ائمہؑ سے جھوٹی بات منسوب کرنا۔
05حلق تک غبار (گرد و غبار) پہنچانا۔
06اذانِ فجر تک حالتِ جنابت یا حیض و نفاس پر باقی رہنا۔
07سیال چیز سے حقنہ (Enema) لینا۔
08جان بوجھ کر قے (Vomiting) کرنا۔
09پانی میں پورا سر ڈبونا (احتیاطِ واجب)۔

3۔ سفر اور روزہ

اگر کوئی شخص ظہر کے بعد سفر شروع کرے تو اس کا اس دن کا روزہ صحیح ہے اور وہ اسے مکمل کرے گا۔ لیکن اگر ظہر سے پہلے سفر شروع ہو تو روزہ قصر کیا جائے گا۔

4۔ جان بوجھ کر روزہ توڑنا (کفارہ)

بغیر شرعی عذر کے روزہ توڑنے پر قضا کے ساتھ کفارہ واجب ہوتا ہے:

• یا 60 روزے رکھنا (جن میں 31 مسلسل ہوں)۔
• یا 60 مساکین کو پیٹ بھر کر کھانا کھلانا۔

1 thought on “Jurisprudence of Fasting: Rules & Regulations”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Karbala: An Inspiration of Life

The month in which Imam Hussain (as) – the grandson of the holy Prophet (pbuh) was brutally martyred along with his family members on the 10th day of Moharram – Ashura.

Read More »
آج کی دعا و حدیث
Daily Supplication & Hadith